ہفتہ, مارچ 1, 2025
اشتہار

سندھ ایپکس کمیٹی کا اجلاس، کراچی آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کا عزم

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی : وزیر اعلیٰ سندھ کی زیر صدارت اپیکس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں مدارس کی رجسٹریشن اور کراچی آپریشن پر تفصیلی تبادلہ خیال کرتے ہوئے اس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

تصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ ہاؤس میں مراد علی شاہ کی زیر صدارت اپیکس کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں گورنر سندھ، کورکمانڈر کراچی جنرل نوید مختار، ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اس موقع پر آئی جی سندھ پولیس کی جانب سے کراچی آپریشن کے حوالے سے وزیر اعلیٰ سندھ کو بریفنگ دی گئی، اے ڈی خواجہ نے مراد علی شاہ کو بتایا کہ ’’پاکستان مخالف نعروں اور اے آر وائی پر حملوں میں ملوث 35 خواتین کی شناخت ہوچکی ہے جن کے تمام کوائف اکھٹے کر کے گھر کے مردوں سے حلف ناموں پر دستخط کروائے گئے ہیں‘‘۔

پڑھیں: مدارس کی رجسٹریشن کا فیصلہ اٹل ہے،مولا بخش چانڈیو

آئی جی سندھ پولیس کی جانب سے بتایا گیا کہ  ’’شناخت کی گئی خواتین کے سربراہان سے جن حلف نامے پر دستخط کروائے گئے ہیں اُن میں قواعد و ضوابط درج کیے گئے ہیں کہ ’’پولیس کے طلب کرنے پر فوری طور پر متعلقہ تھانوں میں پیش ہونا ہوگا‘‘۔

پاکستان مخالف نعروں اور میڈیا ہاوسز پر حملوں میں ملوث 35 خواتین کو شہر نہ چھوڑنے کا حکم

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ’’متعلقہ تھانوں کی جانب سے شرپسندی میں ملوث خواتین کے گھروں کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے اور انہیں شہر میں رہنے کے لیے پابند کیا گیا ہے، گھر کے مردوں نے بھی پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے‘‘۔

قبل ازیں وزیر اعلیٰ سندھ نے اجلاس میں موجود شرکاء سے کہا کہ ’’کراچی آپریشن نتائج کے حصول تک جاری رکھا جائے گا، کسی بھی سیاسی گروہ کو عوام پر زبردستی مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی فلاحی کاموں کی آڑ میں کسی جماعت کو بھتہ جمع کرنے کی اجازت ہوگی‘‘۔

اجلاس کے اختتام پر مشیر اطلاعات سندھ مولا بخش چانڈیو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’’مدارس کی رجسٹریشن کا فیصلہ اٹل ہے اور جلد اس عمل کو مکمل کیا جائے گا‘‘۔

مزید پڑھیں:  وزیر اعلیٰ ہاؤس میں سندھ اپیکس کمیٹی کا اجلاس جاری

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’’شہر قائد میں عارضی رہائش اختیار کرنے والوں کے لیے بھی ایک ضابطہ اخلاق تیار کیا گیا ہے جس کے تحت دوسرے علاقوں سے ٓکر رہائش اختیار کرنے والے افراد کو تمام کوائف متعلقہ تھانے کو جمع کروانے ہوں گے اور ایسے افراد کا مکمل ریکارڈ رکھا جائے گا‘‘۔

ایم کیو ایم کے دفاتر سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ ’’صوبائی حکومت سرکاری اراضی پر بننے ہوئے سیاسی دفاتر کو مسمار کررہی ہے ۔ شہر کے کسی بھی حصے میں غیر قانونی تعمیرات ہوئی ہیں انہیں ہر صورت مسمار کیا جائے گا‘‘۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں

Statcounter